اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق افریقی نژاد عیسائیوں کے چرچ پر گذشتہ دنوں ہونے والے حملے میں 9 افراد کی ہلاکت پر امریکی صدر باراک اوباما نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں جاری نسل پرستی کو امریکی معاشرے پر بد نما داغ قرار دیا ہے۔
غیر ملکی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی پولیس گذشتہ روز چرچ پر ہونے والے حملے کو ’ہیٹ کرائم‘ یا ’نفرت انگیز جرم‘ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
امریکی صدر نے سان فرانسسکو میں ایک تقریب میں خطاب کے دوران کہا کہ ’حملہ آور کے عزائم ہمیں نسل پرستی کی یاد دلاتے ہیں جو ہمارے معاشرے پر بدستور ایک داغ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ہمیں مشترکہ کوششیں کرنی ہوگی۔‘

امریکی ریاست جنوبی کیرولینا کے چرچ میں فائرنگ سے 9 افراد ہلاک
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کارلیسٹن میں 19ویں صدی کے قدیم 'افریقی امریکی چرچ' میں ایک شخص نے فائرنگ کی۔ خیال رہے کہ افریقی امریکی چرچ میں عبادت کے لیے سیاہ فام افراد کی اکثریت آتی ہے جبکہ اس علاقے میں بھی سیاہ فام افراد کی اکثریت آباد ہے۔
امریکا میں ایک چرچ میں ہونے والی دہشت گردی میں عبادت میں مصروف 9 افراد ہلاک ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ریاست جنوبی کیرولینا کے شہر کارلیسٹن میں 19ویں صدی کے قدیم 'افریقی امریکی چرچ' میں ایک شخص نے فائرنگ کی جس سے متعدد افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ خیال رہے کہ افریقی امریکی چرچ میں عبادت کے لیے سیاہ فام افراد کی اکثریت آتی ہے جبکہ اس علاقے میں بھی سیاہ فام افراد کی اکثریت آباد ہے۔ پولیس نے چرچ میں ہلاکتوں کی تصدیق کی البتہ کسی بھی ہلاک شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایک 21 سالہ سفید فام نوجوان نے چرچ میں فائرنگ کی جس سے 9 افراد ہلاک ہوئے جبکہ مسلح نوجوان وہاں سے فرار ہو گیا۔ بیان میں بتایا گیا کہ نوجوان نے پینٹ شرٹ اور جوگر زیب تن کیے ہوئے تھے۔ چرچ میں بم کی موجودگی کی بھی افواہ بھی سامنے آئی مگر بعد ازاں اس کو کلیئر قرار دیا گیا۔ پولیس نے علاقے کو سیل کر دیا اور ہیلی کاپٹر کی مدد سے علاقے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ سراغ راساں کتوں کی مدد سے حملہ آور کی تلاش شروع کر دی۔
چرچ کے قریب سے ایک مشکوک شخص کو حراست میں بھی لیا گیا ہے، البتہ اس شخص کے حوالے سے بھی پولیس نے کسی قسم کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ دوسری جانب کارلیسٹن کے میئر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ واقع رات کو نو بجے اس وقت پیش آیا جب لوگ عبات میں مصروف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تاریخی چرچ میں یہ ایک ناقابل بیان اور اندوہناک واقعہ ہے، ایک شرپسند نے عبادت کے لیے آنے والوں کی جان لی۔
.......
/169